Letter to Editor   Contact Us About Us Home

4 لاکھ بے گھروں اور غریبوں کودہلی سرکار کھانا کھلائے گی

 

نئی دہلی۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی حکومت ہفتے سے 4 لاکھ بے گھروں اور غریبوں کو کھانا کھلائےگی اور کورونا وائرس سے کسی بھی منفی حالات سے نمٹنے کےلئے تین مرحلوں کا منصوبہ تیار کیا ہے۔کیجریوال نے جمعہ کو میڈیا کو بتایا کہ دہلی حکومت ابھی 224رین بسیروں میں 20ہزار بے گھروں اور غریبوں کو دو وقت کا کھانا مہیا کرا رہی ہے۔ آج سے 325اسکولوں میں بھی یہ انتظام کیاجارہا ہے جہاں ہر اسکول میں 500 لوگوں کے لئے دونوں وقت کا کھانا مہیا کرایا جائے گا۔ جمعہ کو دو لاکھ لوگوں کے لئے یہ انتظام ہو گا جسے ہفتے سے دوگنا یعنی چار لاکھ کیا جائے گا۔یہ اطلاع نیوز  18اردو نے اپنی ویب سائٹ پر دی ہے۔انہوں نے پارٹی ارکان اسمبلی سے اپنے اپنے حلقوں میں بے گھروں اور غریبوں کو راحت پہنچانے کے کام میں جٹ جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے مختلف تنظیموں کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی سرحد میں جو بھی رہ رہے ہیں وہ ہمارے ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر روزانہ 100 کیسیز آتے ہیں تو دہلی حکومت اسے سنبھالنے کے لئے تیار ہے۔ ہم نے ڈاکٹروں کے ساتھ ایک ٹیم تشکیل دی ہے ، جو ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ سی ایم کیجریوال نے کہا کہ حکومت اس بات کی تیاری کر رہی ہے کہ اگر روزانہ 500 مریض یا ایک ہزار مریض بھی کورونا سے متاثر ہوتے ہیں تو پھر اس کے لئے انتظامات کیا ہیں۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

 

دُنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے متجاو ز

 

نئی دہلی (ایجنسیاں) دُنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسپین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 769 اموات ہوئی ہیں۔اس درمیان خبر ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار کر لی ہے۔ دریں اثناایران سے موصولہ اطلاع کے مطابق یہاں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے زہریلا کیمیکل 'میتھانول' استعمال کرنے سے لگ بھگ 300 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دُنیا بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر روز ہزاروں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چین کے صدر نے وائرس سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو تعاون کی پیش کش کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ امریکہ میں اب کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔ یہ تعداد 96 ہزار سے زائد ہے۔اسی درمیان بی بی سی نے اپنی خبر میں یہ اطلاع دی ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین پانچ لاکھ 66 ہزار سے بڑھ گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس بیماری سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار ہے۔امریکہ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 86 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جو چین سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں کورونا سے کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 اٹلی میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں جہاں وائرس سے 8215 ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ چین نے عارضی طور پر غیر ملکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بات چیت ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس سے درپیش خطرات کے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے شہریوں کو ہوٹل میں قرنطیہ کیا جائے گا جبکہ انڈیا کی حکومت نے تقریباً 23 ارب کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ دنیا میں ایک چوتھائی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ ہوچکا ہے جس میں کئی حکومتوں نے تمام کاروبار بند اور صرف ضروری اشیا کی دکانیں کھلی رکھنے کا حکم دیا ہے۔

 




برطانوی وزیراعظم  بھی کرونا وائرس کے شکار

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وہ پہلے سربراہ حکومت ہیں جو عالمگیر وبا کی زد میں آئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قیام گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ ہی میں تنہائی اختیار کرلی ہے اور وہیں سے سرکاری امور انجام دیں گے۔
ان سے پہلے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور ان کے بعد برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک کا وائرس ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔
55 سالہ بورس جانسن نے جمعرات کو دارالعوام میں وزیراعظم کے ہفتہ وار سوال جواب سیشن میں شرکت کی تھی۔ ہلکے بخار اور کھانسی کی شکایت پر ان کا ٹیسٹ کیا اور نصف شب کو نتیجہ ملا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔
وزیراعظم جانسن نے جمعے کو ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان میں کرونا وائرس کی معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ لیکن وہ سرکاری خدمات انجام دیتے رہیں گے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومتی ٹیم کے ساتھ رابطہ رکھنا ممکن ہے جو کرونا وائرس کا مقابلہ کر رہی ہے۔
بورس جانسن کے اعلان کے کچھ دیر بعد وزیر صحت میٹ ہینکوک نے بتایا کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے اور وہ تنہائی اختیار کر رہے ہیں۔
کئی مشہور شخصیات کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن، بورس جانسن پہلے سربراہ حکومت ہیں جو اس کی زد میں آئے ہیں۔ مارچ کے آغاز میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اپنی اہلیہ کا ٹیسٹ مثبت آںے کے بعد تنہائی میں چلے گئے تھے۔ لیکن وائرس میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ لیکن، ان کے منفی نتائج آئے تھے۔

کورونا کی مار غریبوں پر کیسے پڑ رہی ہے؟ بی بی سی کی پڑتال
کورونا وائرس کی عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پورا ہندوستان اس وقت لاک ڈاون پر ہے۔ یعنی کاربار زندگی بند کر ہے۔ لوگوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں لیکن دیہاڑی پر کام کرنے والوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار وکاس پانڈے نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ دیہاڑی دار لوگ کس طرح اس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
دلی کے قریب نویڈا کے علاقے میں لیبر چوک تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں سے بھرا رہتا ہے۔
دلی کے مضافاتی علاقے میں یہ چھوٹا سا چوک ایسی جگہ ہے جہاں ٹھیکے دار اور تعمیراتی کام کروانے والے ہر روز مزدوروں کی تلاش میں آتے ہیں۔
اتوار کو انڈیا میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے ابتدائی گھنٹوں میں جب میں اس چوک پر پہنچا تو یہاں ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مجھے اس پر یقین نہیں آیا۔
مجھے ایک کونے میں کچھ لوگ جمع نظر آئے۔
میں نے ان سے محفوظ فاصلے پر رک کر پوچھا کہ کیا وہ لاک ڈاون کی پابندی کر رہے ہیں۔
اترپردیش کے ضلعے بندا سے تعلق رکھنے والے رمیش کمار نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ان کو آج دیہاڑی پر لے جانے والا کوئی نہیں ملے گا لیکن پھر بھی انھوں نے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ چھ سو روپے روزانہ کماتے ہیں اور ان کی کفالت میں پانچ افراد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چند دنوں میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا۔
میں جانتا ہوں کہ کورونا وائرس سے کتنا خطرہ ہے لیکن میں اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا۔ '
کروڑوں کی تعداد میں دیہاڑی پر کام کرنے والوں کو اسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کا مطلب یہ ہے اگلے تین ہفتوں تک انھیں کام ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
حقیقت میں بہت سے لوگوں کے پاس کچھ دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا۔
انڈیا میں چھ سو سے زیادہ مریضوں کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور 13 افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
کئی ریاستی حکومتوں نے جن میں شمال مغرب میں اتر پردیش، جنوب میں کیرالا اور دارالحکومت نئی دہلی شامل ہیں کہا ہے کہ وہ مستحق لوگ کے بینک کھاتوں میں براہ راست امدادی رقوم منتقل کریں گی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے بھی دیہاڑی دار مزدوروں کی مالی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس میں بھی کئی مشکلات درپیش ہیں۔
مزدوروں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق انڈیا میں نوے فیصد افرادی قوت غیر سرکاری یا غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہے جن میں رکشہ ڈرائیور، صفائی کا کام کرنے والے، سکیورٹی گارڈز یا چوکیدار، ٹھیلے والے ، کوڑا اکھٹا کرنے والے یا گھروں میں کام کرنے والے شامل ہیں۔
ان کی اکثریت کو پینشن، تنخواہ سمیت چھٹیوں یا بیماری کی چھٹیوں یا کسی انشورنش کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کے بینکوں میں اکاؤنٹس بھی نہیں ہیں اور وہ روز کماتے اور روز کھاتے ہیں۔
ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھروں سے دور کسی دوسری جگہ یا ریاست میں جا کر کام کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی ایک جگہ مستقل قیام نہیں کرتے اور روزگار کی تلاش میں ایک ریاست سے دوسری ریاست اور شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے رہتے ہیں۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یقیناً یہ بہت پیچیدہ مسائل ہیں اور کسی بھی حکومت کو کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو برق رفتاری سے کام کرنا ہو گا کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صورت حال بدل رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کمیونٹی باورچی خانوں کا انتظام کرنا ہو گا تاکہ بڑی مقدار میں کھانا بنا کر متاثرہ افراد تک پہنچایا جا سکے۔ ہمیں نقد رقوم، آٹا اور چاول لوگوں میں تقسیم کرنے ہوں گے یہ دیکھے بغیر کہ کون کسی ریاست سے تعلق رکھتا ہے۔
اکھلیش یادو کو اپنی ریاست اتر پردیش کے بارے میں بہت تشویش ہے کیوں کہ یہ انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جس کی مجموعی آبادی 22 کروڑ کے قریب ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وبا کو پھلینے سے روکنے کے لیے انھیں لوگوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنے کو بھی روکنا ہو گا اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لوگوں تک خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اکھلیش یادو کا کہنا تھا ’کسی بھی مشکل وقت میں شہروں میں آ کر کام کرنے والے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں جو اس وبائی صورت حال میں بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘۔
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے سرکاری اہلکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو ایسے لوگوں کا پتا لگائے گی جو دوسری جگہوں یا شہروں سے آئے ہوئے ہیں اور جس کسی کو بھی مدد کی ضرورت ہو گی اس کی مدد کی جائے گی۔
انڈیا کے وزیرِ ریلوے نے مارچ کی 31 تاریخ تک تمام مسافر گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی ہے۔
مسافر گاڑیوں کی آمدورفت کے معطل ہونے سے چند دنوں قبل لاکھوں لوگوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ شہروں دہلی، ممبئی اور احمد آباد سے چھتوں تک بھری ہوئی ٹرینوں میں بیٹھ کر اترپردیش اور بہار میں اپنے اپنے قصبوں اور دیہات کا سفر کیا۔
اس کی وجہ سے کورونا وائرس کے ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیل جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ماہرین کو ڈر ہے کہ آنے والے ہفتوں میں انڈیا کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔
تاہم ہر کوئی اپنے گھر جانے کی اسطاعت نہیں رکھتا۔
کشن لال شمالی شہر احمد آباد میں رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار دنوں میں ان کی کوئی کمائی نہیں ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن انھوں نے سنا ہے کہ حکومت نے مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ کب اور کیسے۔
کشن لال کے دوست علی حسن جو ایک دکان میں صفائی کا کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جس دکان میں وہ کام کرتے تھے وہ دو دن سے بند ہے اور انھیں کوئی مزدوری نہیں ملی ہے۔ انھیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ دکان کب کھلے گی۔
میں بہت خوف زدہ ہوں۔ میرے بیوی بچے ہیں میں ان کا پیٹ کیسے بھروں گا۔ '
انڈیا میں کروڑوں لوگ چھوٹے کاروباری ہیں جو دکانیں یا چھوٹا موٹا کاروبار چلاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی مہیا کرتے ہیں۔
محمد صابر کا دہلی میں دودھ اور دہی کا چھوٹا سا سٹال ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمیوں میں کام زیادہ ہونے کی امید پر انھوں نے دو افراد کو کام پر رکھا تھا۔
اب میں ان کو تنخواہ نہیں دے سکتا۔ میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔ گاؤں میں ہمارے خاندان کی کچھ کھیتی باڑی ہے جہاں سے انھیں کچھ رقم مل جاتی تھی لیکن اس مرتبہ ژالہ باری سے فصل تباہ ہو گئی اور وہ بھی مدد کے لیے اب میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ '
انھوں نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بےبس محسوس کرتے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ کورونا سے پہلے وہ بھوک سے مر جائیں گے۔
ملک کے تمام تاریخی مقامات بند ہیں جس کا اثر ان لوگوں پر بری طرح پڑے گا جن کی روزی کا انحصار ان مقامات کی سیر کرنے کے لیے آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں پر تھا۔
تیج پال کشیپ کا جو دلی کے تاریخی انڈیا گیٹ پر فوٹوگرافی کر کے روزگار کماتے تھے، کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار کے کبھی اتنے برے حالات نہیں دیکھے۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ دو ہفتوں سے جب ابھی لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں ہوا تھا تو کوئی کاروبار نہیں تھا اور کوئی سیاح نہیں تھا۔ اب میں یہاں پھنس گیا ہوں نہ واپس اپنے گاؤں جا سکتا ہوں نہ ہی کوئی کام مل رہا ہے۔ میں اترپردیش میں اپنے بچوں اور بیوی کے لیے بہت پریشان ہوں۔ '
ٹیکسی سروس اوبر اور اولا کے ڈرائیوروں کا بھی یہ ہی حال ہے۔
یوگندر چودھری جو دلی میں ایک فضائی کمپنی کے ملازمین کے لیے ٹیکسی چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان جیسے لوگوں کو مالی مدد فراہم کرنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ لاک ڈاؤن کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ کورونا وائرس خطرناک ہے اور اس سے بچنا چاہیے لیکن میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر لاک ڈاؤن تین ہفتوں تک چلتا رہا تو میں کسی طرح اپنا اور اپنی فیملی کا گزارہ کروں گا۔ '
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اب تک کورونا وائرس کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔
ایک موچی نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ احمد آباد کے ریلوے سٹیشن کے باہر برسوں سے مسافروں کے جوتے پالش کرنے کا کام کر رہے ہیں لیکن اب کوئی نظر نہیں آ رہا۔
انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ لوگوں نے سفر کرنا کیوں بند کر دیا ہے۔
نہیں جانتا کہ ان دنوں لوگ ریلوے سے سفر کیوں نہیں کر رہے۔ مجھے یہ تو معلوم ہے کہ کوئی کرفیو وغیرہ لگا دیا گیا ہے لیکن کیوں اس کا مجھے علم نہیں ہے۔ '
وینود پرجاپتی جو اسی علاقے میں پانی کی بوتلیں فروخت کرتے ہیں، انھوں نے اس بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ کورونا وائرس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔
یہ بہت خطرناک وائرس ہے اور اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ زندگی یا بھوک ہمیں کس کا انتخاب کرنا چاہیے۔

 

Copyright © Hindustan Express Urdu Daily, Published from, Delhi, India. All rights reserved. Web Editor: Shahidul Islam